اجتماعی قربانی
قرآن و سنت کی روشنی میں اجتماعی قربانی — غریب، یتیم اور مستحق خاندانوں کے لیے قربانی کا انتظام۔ اپنی قربانی ہمارے ساتھ ادا کریں اور ثواب پائیں
وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُم مِّن شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ
“اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں میں سے بنایا ہے، اُن میں تمہارے لیے بھلائی ہے”— سورۃ الحج: ۳۶
۱۵+
سال کا تجربہ
۲۰۰۰+
قربانیاں سالانہ
۵۰۰۰+
خاندان مستفید
۱۰۰٪
شرعی ضمانت
قربانی کی اقسام
اپنی ضرورت اور استطاعت کے مطابق کوئی بھی طریقہ منتخب کریں
اجتماعی قربانی
جامعہ فیضانِ شریعت کی جانب سے غریب، یتیم اور مستحق خاندانوں کے لیے اجتماعی قربانی کا انتظام — آپ کی قربانی مناسب قیمت پر ادا کی جائے گی اور گوشت مستحقین میں تقسیم ہوگا۔
ایک حصّہ
گائے، بھینس یا اونٹ میں سات حصّے ہوتے ہیں — آپ ایک حصّے میں شریک ہو کر اپنی قربانی ادا کر سکتے ہیں۔ یہ فقہِ حنفی کے مطابق بالکل درست اور مکمل قربانی ہے۔
مکمل قربانی
بکری، مینڈھا یا پوری گائے / اونٹ — مکمل جانور کی قربانی۔ صاحبِ نصاب کے لیے کم از کم ایک جانور یا ایک حصّہ واجب ہے۔ پوری گائے/اونٹ میں سات افراد شریک ہو سکتے ہیں۔
قربانی بطور عطیہ
کسی فوت شدہ عزیز کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے، یا کسی مستحق خاندان کی جانب سے قربانی — آپ کا عطیہ ان کے لیے سرانجام دیا جائے گا اور آپ کو اطلاع دی جائے گی۔
قربانی کے جانور اور قیمتیں
تمام قیمتیں ۱۴۴۶ ہجری / ۲۰۲۵ عیسوی کے لیے تخمینی ہیں — حتمی قیمت رابطے پر بتائی جائے گی
بکری / مینڈھا
الشاةایک بکری یا مینڈھا صرف ایک شخص کی طرف سے کافی ہے
گائے
البَقَرَةایک گائے میں سات افراد شریک ہو سکتے ہیں — فی حصّہ کم ترین قیمت میں قربانی
بھینس
الجاموسبھینس گائے کی طرح ہے — سات حصّوں میں تقسیم ہو سکتی ہے
دنبہ / گوسفند
الضَّأندنبہ اگر کافی موٹا اور فربہ ہو تو ۶ ماہ کا بھی جائز ہے
اونٹ
الإبلاونٹ کی قربانی میں سب سے زیادہ ثواب ہے — سات افراد شریک ہو سکتے ہیں
اہم شرعی مسائل
قربانی کے متعلق ضروری احکام — فقہِ حنفی کے مطابق
قربانی کب واجب ہے؟
جو شخص صاحبِ نصاب ہو (یعنی ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے برابر نقد رقم کا مالک ہو) اس پر قربانی واجب ہے — قرض منہا کرنے کے بعد۔
قربانی کے ایّام
قربانی کے تین دن ہیں: ۱۰، ۱۱ اور ۱۲ ذوالحجہ۔ افضل ۱۰ ذوالحجہ کو ذبح کرنا ہے، لیکن ۱۳ ذوالحجہ کے طلوعِ فجر سے پہلے تک بھی جائز ہے۔
جانور کی شرائط
جانور تندرست ہو، اعضاء مکمل ہوں، اندھا یا کانا نہ ہو، اتنا دبلا نہ ہو کہ ہڈیوں میں مغز نہ ہو، کان یا دُم کا ایک تہائی سے زیادہ کٹا ہوا نہ ہو۔
حصّہ داری کی شرط
گائے، بھینس اور اونٹ میں سات افراد شریک ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ ہر شریک کی نیت قربت (ثواب) ہو — محض گوشت کی نیت سے شرکت جائز نہیں۔
گوشت کی تقسیم
قربانی کے گوشت کے تین حصّے کریں: ایک اپنے لیے، ایک رشتہ داروں کو، ایک فقراء و مساکین کو — یہ مستحب ہے۔ پورا گوشت خود رکھنا یا پورا تقسیم کرنا بھی جائز ہے۔
اجتماعی قربانی کا حکم
اجتماعی قربانی میں قربانی کرنے والے ادارے پر ذمہ داری ہوتی ہے کہ ذبح کے وقت نام لیا جائے۔ جامعہ ہر شریک کا نام لے کر قربانی کرتا ہے اور تصویری شہادت دیتا ہے۔
قربانی کے مسائل — ویڈیوز
علمائے کرام کے بیانات — قربانی کے شرعی احکام جانیں
قربانی کے مسائل ۲۰۲۵ — قسط اول
مفتی طارق مسعودقربانی کس کے نام سے کریں؟
مفتی طارق مسعودقربانی کے مسائل — مفتی محمد اکمل
مفتی محمد اکملآسان قربانی — قربانی کا مقصد
دعوتِ اسلامیقربانی کیسے دیں؟
بینک ٹرانسفر یا آن لائن والٹ — آپ کی سہولت کے مطابق
Meezan Bank
Account Title
Idara Faizan e Shariat
Branch
Gulshan-e-Iqbal, Karachi
Account Number
01230100140258
IBAN
PK25MEZN0001230100140258
HBL (Habib Bank)
Account Title
Idara Faizan e Shariat
Branch
Korangi, Karachi
Account Number
20737900063003
IBAN
PK36HABB0020737900063003
EasyPaisa / JazzCash
Idara Faizan e Shariat
0311-1729526
رابطے کے لیے
رقم بھیجنے کے بعد اسکرین شاٹ اس نمبر یا ای میل پر بھیجیں تاکہ رجسٹریشن ہو سکے
idarafaizaneshariatkarachi@gmail.comاکثر پوچھے گئے سوالات
قربانی سے متعلق عام سوالوں کے شرعی جوابات
ابھی رجسٹریشن کریں — جگہ محدود ہے
ہر سال ہزاروں گھرانوں کو قربانی کا گوشت ملتا ہے — آپ کی قربانی کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لاتی ہے۔